Thursday, 3 June 2021

عزیز بیٹی ملالہ


 عزیز بیٹی ملالہ
سلامت رہو
امید ہے اپنے محبت کرنے والوں کے درمیان خوش و خرم ہو گی 
بڑے دنوں سے دل چاہتا تھا تم سے بات کروں مگر کوئی موقعہ نہیں بن رہا تھا اب تمہارے اس  انٹرویو نے مجھے مجبور کیا کہ تمہیں شفقت سے کچھ نصیحتیں کر دوں  ویسے تو یہ کام تمہارے والد کا ہے مگر مجھے افسوس ہے شاید انہوں نے اپنی دنیا بنانے کے لئے تمہاری آخرت برباد کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے 
ممکن ہے  تمہیں یہ باتیں ناگوار گزریں مگر بیٹا ایک انکل کی خیر خواہی سمجھ کر نظر انداز کر دینا
میری بیٹی تم بہت چھوٹی اور نا سمجھ تھیں جب کچھ لبرل قوتوں نے بڑی سمجھ داری سے تمہاری نا سمجھی کو استعمال کیا اور تم اس پورے ڈرامہ کا حصہ بن گئیں مجھے یقین ہے اللہ تمہارے بچپن اور کم سنی کے سبب تمہیں معاف کر دے گا 
مگر میری عزیز بیٹی اب تم نوجوانی کی عمر میں ہو اب اپنے اعمال  کی خود جوابدہ ہو رہی ہو ایک بار سکون سے سوچ لو کہیں تمہیں ایک دلکش مستقبل کے خواب دکھا کر کسی کے مقاصد کے لئے  قربان تو نہیں کر دیاجائے گا ؟
ایک اور اہم بات جو یہاں ہمارے کلچر میں تو بیٹیوں سے یو ں نہیں کہہ پاتے مگر جہاں تم اب ہو وہاں بہرحال یہ باتیں رسالوں میں چھپتی ہیں بیٹی ایک کمرے کی چھت کے نیچے تو جانور بھی باندھے جاتے ہیں اکثر ان میں کوئی باہمی رشتہ نہیں ہوتا مگر ایک چھت کے نیچےرہنے بسنے والے انسان بہرحال رشتوں میں بندھے ہی اچھے ہوتے ہیں مردو عورت کی ایک دوسرے سے ضروریات بس جسمانی نہیں ہوتیں روحانی جذباتی و نفسیاتی بھی ہوتی ہیں جو رشتوں کے بندھن کے بغیر ممکن نہیں ہوتیں تم ابھی چھوٹی ہو جانتی نہیں ہو جب ذرا پختہ و سنجیدہ عمر تک پہنچو گی تو تمہیں تب میاں بیوی کے اس پاکیزہ رشتے کی ضرورت ہو گی مگر تب تک یہ درندے تمہیں ٹشو پیپرز کی طرح استعمال کر چکے ہوں گےتنہائی محرومی پچھتاوا بانٹنے والا بھی کوئی نہ ہو گا 

میری بچی  خدا کے لئے اس فریب سے بچ جاو اپنے محبت کرنے والے رب کی آغوش میں لوٹ  آو وہ پیار سے تمہارا منتظر ہے اسے اور کتنا انتظار کرواو گی؟

تمہارا خیر خواہ  تمہارا انکل 
زبیر منصوری 

۳ جون ۲۰۲۱  



Tuesday, 28 July 2020

مبشر علی زیدی سے ایک مکالمہ

احمد صفی:السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ 
مبشر علی زیدی:وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

احمد صفی :آپ کی تحاریر پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں آپ کو بہت ساری چیزیں معیوب لگتی ہیں ،اور یہ اشارہ ملتا ہے کہ آپ اسلام کے خلاف ہیں؟ 
مبشر علی زیدی:میں اسلام یا مذہب کے خلاف نہیں ہوں، ان کے اس رخ کے خلاف ہوں جو ہم تک پہنچتے پہنچتے مسخ ہوگیا ہے۔میں کہیں لکھ چکا ہوں کہ جو درست ہے، وہ اسلام ہے۔ جو غلط ہے، وہ اسلام نہیں ہوسکتا۔جو اسلام ہمارے سامنے ہے، اس میں بہت کچھ غلط ہے۔

احمد صفی :اعتراضات قائم کرنے کے پیچھے آپ کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ 
مبشر علی زیدی:اعتراض کا مقصد حقیقت جاننا ہوتا ہے۔ میں اپنے خاندانی مذہب یعنی شیعہ ازم پر بھی بے رحمی سے تنقید کرتا رہا ہوں۔ آپ کو ایک عام شیعہ ہمیشہ میری برائی کرتا ہوا ملے گا۔بس میں بھی اپنے الجھے ہوئے ذہن میں آنے والے سوالات لکھ دیتا ہوں۔ ان سوالات کا مقصد مذہب پرستوں سے کوئی بحث چھیڑنا یا ملحدین سے داد حاصل کرنا نہیں ہوتا ہے ۔

احمد صفی:کیا آپ شروع سے ہی ایسے تھے یا پھر کوئی حادثہ یا واقعہ اسلام کے متعلق آپ کی فکر کو بدلنے کا سبب بنا ہے۔
مبشر علی زیدی:میرا خیال ہے کہ میں شروع سے ہی تنقیدی ذہن کا مالک ہوں۔ نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، عمرہ اور حج کیا، زیارات پر گیا۔ ہر مقام پر سچے دل سے عبادت کی۔قرآن کے درجنوں ترجمے اور چند ایک تفاسیر بھی پڑھیں۔

احمد صفی:عام مسلمانوں کے متعلق آپ کی کیا سوچ ہے؟؟ 
مبشر علی زیدی:مسلمان ایک دائرے میں قید ہیں۔ ایک حد سے آگے سوچتے ہی نہیں۔وہ مسائل کو استدلال کی نگاہوں سے دیکھنے کے بجائے عقیدت کی نگاہوں سے دیکھنے کے خو گر ہیں۔

احمد صفی:آپ نے ابھی تک جو اسلام پر اعتراضات اٹھائے ہیں کیا آپ کو ان کا تشفی بخش جواب ملا ہے؟؟
مبشر علی زیدی:جو لوگ اسلام چھوڑ چکے ہیں یا تنقیدی نگاہ سے مذہب کو دیکھتے ہیں، ان کے سوالات ایک عام مسلمان یا عالم دین سن بھی نہیں سکتا، جواب دینا تو دور کی بات ہے۔
مزید میں نے اسلام پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے ۔ اعتراضات پہلے سے موجود ہیں۔ اگر میں نے کوئی دوہرایا ہے تو ان کا پرانا جواب ملا ہے جو پہلے سے میرے علم میں تھا۔مثال کے طور پر آج کل امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر تحریک جاری ہے۔ ماضی کے ہیروز آج کے ولن قرار دیے جارہے ہیں۔ خود کو سیاہ فام غلام کے طور پر سوچیں۔ کیسی زندگی ہوگی؟ کیا آپ برداشت کرسکیں گے؟
دنیا کے سب سے اعلیٰ مذہب نے غلامی کیوں ختم نہیں کی؟ ایک آیت آجاتی ہے۔ کس میں حوصلہ تھا کہ انکار کرتا؟علما جواب دیتے ہیں کہ اسلام نے غلامی ختم کرنے کا راستہ دکھادیا تھا۔ یہ محض دل کو تسلی دینے کا بہانہ ہے۔ اگر کوئی راستہ تھا تو ابراہام لنکن سے پہلے کسی مسلمان ملک یا رہنما یا عالم نے کوئی پیشرفت کی؟

احمد صفی:آپ امریکہ میں رہتے ہیں وہاں رہ کر آپ کو یہ اندازہ ہوا ہوگا کہ وہاں کے لوگ اسلام کے تئیں کیسی سوچ رکھتے ہیں؟ اور خاندان کا کیا تصور ہے؟ 
مبشر علی زیدی:یہاں کے مسلمان ویسے ہی ہیں جیسے پاکستان کے، جیسے ایران کے، جیسے شمالی افریقہ کے جیسے ہندوستان کے۔وہ دور گیا جب کچھ لوگ شرابیں پینے اور لڑکیوں سے دوستی کے لیے آتے تھے۔ اب خاندان کے خاندان آگئے ہیں اس لیے مذہبی رسومات پر مسلمان ملکوں کی طرح عمل ہورہا ہے۔
جن خاندانوں کے بچے مقامی افراد کے ساتھ گھل مل گئے ہیں اور شادیاں کرلی ہیں، وہ روایتی امریکی بن گئے ہیں۔
امریکی مذہبی لوگ ہوتے ہیں۔ امریکہ مذہبی معاشرہ ہے۔  آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کرلیں لیکن جسم فروشی ممنوع ہے۔ میرے علاقے میں ہر چار قدم پر گرجا ہے۔ میری کاؤنٹی میں دو امام بارگاہ ہیں۔
احمد صفی:آپ اسلام پر نقد کرنے والوں کی فہرست میں سر فہرست ہیں یہ ضرور بتائیں کہ آپ کے مطابق اسلام کا مطالعہ کس نہج پر کرنا چاہیے؟؟
مبشر علی زیدی:اسلام کا مطالعہ ہر شخص کو اپنے مزاج کے مطابق کرنا چاہیے۔ آپ تنقیدی ذہن نہیں رکھتے تو خاندان کے مذہب پر عامل رہیں۔
تنقیدی ذہن رکھنے والے کو تاریخ، سیرت اور قرآن کو ایک ساتھ پڑھنا چاہیے۔ مکمل تصویر دیکھے بغیر کچھ سمجھ میں نہیں آسکتا۔گھر سے نکلنے والا بھٹک سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ گھر واپس نہ آسکے۔ اس لیے باہر قدم نکالنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے۔
احمد صفی :آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا اور بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ سوالات کے جوابات دیے ۔
  • مبشر علی زیدی:آپ کا بھی بہت بہت شکریہ کہ آپ نے علمی اسلوب میں سوالات پوچھے اور مجھے کچھ عرض کرنے کا موقع عنایت فرمایا ۔جزاک اللہ خیرا

Tuesday, 30 June 2020

مبشر علی زیدی سے ایک مکالمہ

احمد صفی:السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ 
مبشر علی زیدی:وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

احمد صفی :آپ کی تحاریر پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں آپ کو بہت ساری چیزیں معیوب لگتی ہیں ،اور یہ اشارہ ملتا ہے کہ آپ اسلام کے خلاف ہیں؟ 
مبشر علی زیدی:میں اسلام یا مذہب کے خلاف نہیں ہوں، ان کے اس رخ کے خلاف ہوں جو ہم تک پہنچتے پہنچتے مسخ ہوگیا ہے۔میں کہیں لکھ چکا ہوں کہ جو درست ہے، وہ اسلام ہے۔ جو غلط ہے، وہ اسلام نہیں ہوسکتا۔جو اسلام ہمارے سامنے ہے، اس میں بہت کچھ غلط ہے۔

احمد صفی :اعتراضات قائم کرنے کے پیچھے آپ کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ 
مبشر علی زیدی:اعتراض کا مقصد حقیقت جاننا ہوتا ہے۔ میں اپنے خاندانی مذہب یعنی شیعہ ازم پر بھی بے رحمی سے تنقید کرتا رہا ہوں۔ آپ کو ایک عام شیعہ ہمیشہ میری برائی کرتا ہوا ملے گا۔بس میں بھی اپنے الجھے ہوئے ذہن میں آنے والے سوالات لکھ دیتا ہوں۔ ان سوالات کا مقصد مذہب پرستوں سے کوئی بحث چھیڑنا یا ملحدین سے داد حاصل کرنا نہیں ہوتا ہے ۔

احمد صفی:کیا آپ شروع سے ہی ایسے تھے یا پھر کوئی حادثہ یا واقعہ اسلام کے متعلق آپ کی فکر کو بدلنے کا سبب بنا ہے۔
مبشر علی زیدی:میرا خیال ہے کہ میں شروع سے ہی تنقیدی ذہن کا مالک ہوں۔ نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، عمرہ اور حج کیا، زیارات پر گیا۔ ہر مقام پر سچے دل سے عبادت کی۔قرآن کے درجنوں ترجمے اور چند ایک تفاسیر بھی پڑھیں۔

احمد صفی:عام مسلمانوں کے متعلق آپ کی کیا سوچ ہے؟؟ 
مبشر علی زیدی:مسلمان ایک دائرے میں قید ہیں۔ ایک حد سے آگے سوچتے ہی نہیں۔وہ مسائل کو استدلال کی نگاہوں سے دیکھنے کے بجائے عقیدت کی نگاہوں سے دیکھنے کے خو گر ہیں۔

احمد صفی:آپ نے ابھی تک جو اسلام پر اعتراضات اٹھائے ہیں کیا آپ کو ان کا تشفی بخش جواب ملا ہے؟؟
مبشر علی زیدی:جو لوگ اسلام چھوڑ چکے ہیں یا تنقیدی نگاہ سے مذہب کو دیکھتے ہیں، ان کے سوالات ایک عام مسلمان یا عالم دین سن بھی نہیں سکتا، جواب دینا تو دور کی بات ہے۔
مزید میں نے اسلام پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے ۔ اعتراضات پہلے سے موجود ہیں۔ اگر میں نے کوئی دوہرایا ہے تو ان کا پرانا جواب ملا ہے جو پہلے سے میرے علم میں تھا۔مثال کے طور پر آج کل امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر تحریک جاری ہے۔ ماضی کے ہیروز آج کے ولن قرار دیے جارہے ہیں۔ خود کو سیاہ فام غلام کے طور پر سوچیں۔ کیسی زندگی ہوگی؟ کیا آپ برداشت کرسکیں گے؟
دنیا کے سب سے اعلیٰ مذہب نے غلامی کیوں ختم نہیں کی؟ ایک آیت آجاتی ہے۔ کس میں حوصلہ تھا کہ انکار کرتا؟علما جواب دیتے ہیں کہ اسلام نے غلامی ختم کرنے کا راستہ دکھادیا تھا۔ یہ محض دل کو تسلی دینے کا بہانہ ہے۔ اگر کوئی راستہ تھا تو ابراہام لنکن سے پہلے کسی مسلمان ملک یا رہنما یا عالم نے کوئی پیشرفت کی؟

احمد صفی:آپ امریکہ میں رہتے ہیں وہاں رہ کر آپ کو یہ اندازہ ہوا ہوگا کہ وہاں کے لوگ اسلام کے تئیں کیسی سوچ رکھتے ہیں؟ اور خاندان کا کیا تصور ہے؟ 
مبشر علی زیدی:یہاں کے مسلمان ویسے ہی ہیں جیسے پاکستان کے، جیسے ایران کے، جیسے شمالی افریقہ کے جیسے ہندوستان کے۔وہ دور گیا جب کچھ لوگ شرابیں پینے اور لڑکیوں سے دوستی کے لیے آتے تھے۔ اب خاندان کے خاندان آگئے ہیں اس لیے مذہبی رسومات پر مسلمان ملکوں کی طرح عمل ہورہا ہے۔
جن خاندانوں کے بچے مقامی افراد کے ساتھ گھل مل گئے ہیں اور شادیاں کرلی ہیں، وہ روایتی امریکی بن گئے ہیں۔
امریکی مذہبی لوگ ہوتے ہیں۔ امریکہ مذہبی معاشرہ ہے۔  آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کرلیں لیکن جسم فروشی ممنوع ہے۔ میرے علاقے میں ہر چار قدم پر گرجا ہے۔ میری کاؤنٹی میں دو امام بارگاہ ہیں۔
احمد صفی:آپ اسلام پر نقد کرنے والوں کی فہرست میں سر فہرست ہیں یہ ضرور بتائیں کہ آپ کے مطابق اسلام کا مطالعہ کس نہج پر کرنا چاہیے؟؟
مبشر علی زیدی:اسلام کا مطالعہ ہر شخص کو اپنے مزاج کے مطابق کرنا چاہیے۔ آپ تنقیدی ذہن نہیں رکھتے تو خاندان کے مذہب پر عامل رہیں۔
تنقیدی ذہن رکھنے والے کو تاریخ، سیرت اور قرآن کو ایک ساتھ پڑھنا چاہیے۔ مکمل تصویر دیکھے بغیر کچھ سمجھ میں نہیں آسکتا۔گھر سے نکلنے والا بھٹک سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ گھر واپس نہ آسکے۔ اس لیے باہر قدم نکالنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے۔
احمد صفی :آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا اور بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ سوالات کے جوابات دیے ۔
مبشر علی زیدی:آپ کا بھی بہت بہت شکریہ کہ آپ نے علمی اسلوب میں سوالات پوچھے اور مجھے کچھ عرض کرنے کا موقع عنایت فرمایا ۔جزاک اللہ خیرا

Friday, 31 January 2020

مسئلہ جہاد کی حساسیت و اہمیت

جہاد جو آج کے دور کا سلگتا ہوا موضوع ہے اسی کو ہتھیار بنا کر اپنوں اور غیروں نے اسلام سے لوگوں کو بدظن کرنے کے لیے بری طرح استعمال کیا ہے۔اس وقت اسلام پر سب سے بڑا الزام جہاد کو بنیاد بنا کر دہشت گردی کا لگایاجاتا ہے۔جو کبھی مسلمانوں کی عزت کا محافظ تھا آج مسلمانوں کے بجائے مخالف طاقتوں کا ایک اہم اور بڑا ہتھیار بن چکا ہے جسے وہ اسلام کے خلاف ہر محاذ پر پورے شد و مد کے ساتھ استعمال کررہے ہیں، جس کی وجہ سے مسلمان آج مظلوم ہونے کے باوجود دہشت گرد اور انسانیت کے لیے خطرے کا باعث سمجھے جارہے ہیںاور یہ ایسی آگ ہے جس کی تپش سے نہ صرف غیروں کی فکری جولان گاہیں جل رہی ہیں بلکہ خود مسلمانوں کے خرمن میں بھی یہ آگ لگی ہوئی ہے۔ 
امت مسلمہ کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ اس دہکتی آگ کو بجھائے، ورنہ نا جانے یہ آگ کتنے دلوں میں اسلام کے خلاف چنگاری پیدا کر دے گی۔کیوں کی آج کی نسل ہر چیز کی عقلی توجیہات کا تقاضا کرتی ہے ۔جو باتیںاس کی عقل کے موافق ہوتی ہیں وہ اس کو قبول کرتی ہے، ورنہ رد کر دیتی ہے۔
عام طورپر اسلامی جہاد کے متعلق جتنے بھی اعتراضات کیے جاتے ہیں ان کی بنیادیں نقلی سے کہیں زیادہ عقلی دلائل پر ہوتی ہیں اور ان سوالات کے وہ عقلی جوابات کے متقاضی ہوتے ہیں اور سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کو سننے کے بعد عام شخص تو دور ایک پڑھالکھا شخص بھی سوچنے پر مجبورہو جاتا ہےاور وہ اسلام کے متعلق شک و شبہات کے گہرے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔اس لیے ہم کو چاہیے کہ ہم اسلام پر غیروں کی جانب سے ہونے والے سوالات سے راہ فرار تلاش نہ کریں بلکہ ان کا جم کر مقابلہ کریں اور اسی نہج پر جواب دیں جس نہج پر سوالات کیے گئے ہیں۔ یہ بھی تبلیغ دین ہی کا حصہ ہے اور یہ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مذہب کی حقانیت کو ثابت کرے اور اس کی تعلیمات کا صحیح رخ دنیا والوں کے سامنے پیش کرے۔ چوں کہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے، جو رہتی دنیا تک رہے گا ،جو تمام افراط و تفریط سے پاک ہےاور اور اس کے اندرقیامت تک پیش آنے والے ہر سوال اور ہر چیلنج کے جواب کی صلاحیت موجود ہے۔
آج کا دور میدان میں جہاد کرنے کا نہیںبلکہ ذہنوں میں جہاد کرنے کا دور ہے۔ اکیڈمک وار کا دور ہے۔ آئیڈیاز اور نظریات کی جنگ ہے اور یہ جنگ ہر مذہب کے لوگ اپنی اپنی سطح پر لڑرہے ہیں۔اس لیے ہم کو دفاع اسلام کے لیے ہر اعتبار سے ہر محاذ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ 
اس سلسلے میں سب سے پہلے ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں نفس جہاد، اس کے اقسام،اس کی اہمیت و ضرورت، اس کے مقاصد،ریاست کے احکام،آیات جہاداوراحادیث جہاد کا پس منظر اور ان کی تفسیر و توضیح،جزیہ کے احکام، دارالاسلام،دار الکفرکے احکام اور تاریخ اسلام کا تفصیل کے ساتھ علم ہو۔ مزیدیہ کہ اسلام کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز سےہم آشناہوں۔ زمانےکے مزاج سےواقفیت بھی ضروری ہے، تاکہ جوابات دینے میں مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑے۔اسی سلسلے کی ایک چھوٹی سی کڑی اس ماہ کا ہمارا یہ جداریہ(دعوت وال میگزین )ہے جو کہ جہاد کے متعلق چند اہم موضوعات پر مشتمل ہے۔
رب کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اس چھوٹی سی کوشش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے ۔

جہاد پر اعتراضات اور ان کے جوابات

اسلامی ریاست جب مکمل طور سے وجود میں آگئی اور اسلام پہلے کی بنسبت کافی تیزی سے پھیلنے لگا یہاں تک کہ بڑے بڑے علاقے اور ملکوں پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا ،دشمنانِ اسلام کے اندر یہ ہمت باقی نا رہی کہ مسلمانوں کے بالمقابل میدان میں اتر سکیں لیکن وہ اسلام دشمنی میں وہ اس قدر غلو کر چکے تھے کہ اپنا ہر لمحہ اسلام کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچتے رہتے  تھے۔
جب وہ لوگ تلوار سے جنگ لڑنے میں مایوس ہوگئے تو انہوں نے ایک نیا منصوبہ بنایا کہ اب ہم کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے بلکہ اب فکری جنگ کریں گے اور لوگوں کے سامنے اسلام اور پیغمبر اسلام کی غلط شبیہ پیش کریں گے، اسلامی تعلیم پر قدغن لگائیں گے ۔ انہوں نے اپنے اس منصوبے کے تحت اسلام پر متعدد طریقوں سے وار کیا کبھی پیغمبر اسلام کی ازدواجی زندگی پر سوال قائم کیا تو کبھی قرآن کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی تو کبھی مذہب اسلام کو قتل و غارت گری کا مذہب بتایا تو کبھی جہادکے متعلق لوگوں میں غلط سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی اور اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے یہاں تک کہ خود مسلمانوں کو شک و شبہ میں ڈال کر اسلام سے بیزار کردیا آج اسی کا نتیجہ ہے کہ بہت سارے لوگ اسلام کے بارےمیں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے، اسلام نے لوگوں کو لوٹ مار کرنا سکھایا ہے وغیرہ۔
اب ہم یہاں جہاد کے متعلق ہونے والے کچھ اعتراضات اور اسکے جوابات کو پیش کریں گے کیونکہ اسلام کو سب سے زیادہ بدنام کرنے کے لیے جس چیز کو ہتھیار بنایا گیا وہ جہاد ہے ۔
۱۔اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے۔
جواب۔انسان کے پاس دو چیزیں ہوتی ہیں پہلا جسم دوسرا قلب جسم کو تو تلوار کے زور پر قابو میں کیا جاسکتا ہے لیکن دل کو نہیں ۔حالانکہ ہم دیکھتے ہیں ہے کہ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دعوتی مشن کا آغاز کیا تھا تو اس وقت آپ تنہا تھے آپ کے پاس کوئی تلوار نہیں تھی اور مقابل میں پوری ملت کفر تھی یہاں تک کہ آہستہ آہستہ لوگ بغیر تلوار کے زور کے دامن اسلام سے وابستہ ہونے لگے ۔اس کےبر عکس کفار مکہ نے مسلمانوں کو ستانا شروع کردیا معاشرتی زندگی تنگ کردی اس کے باوجود پیغمبر اپنے ماننے والوں کو صبر کی تعلیم دیتے رہے یہاں تک مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے لیکن ان کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی اس کے باوجود مسلمانوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا ۔یہاں اللہ نے خود قرآن مجید میں فرمایا ہے (لا اکراہ فی الدین) اس کے علاوہ بہت سارے واقعات اور بہت ساری مثالیں ایسی ملتی ہیں جوا س بات کو بتاتی ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں بلکہ اخلاق اور حق کی تعلیم کی بدولت پھیلا ہے ۔
اس کا دوسرا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ایک داعی کے دعوت دینے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اخلاق پیش کرتا ہے اور ضروری نہیں کہ لوگ اس کی دعوت سے متاثر ہو کراسلام قبول کرلیں لیکن جب ایک بادشاہ اپنی تلوار کی طاقت دکھاتا ہے تو پوری رعایا گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اگر مسلم بادشاہ تلوار کی زور پر اسلام پھیلائے ہوتے تو کوئی بھی شخص نا بچتا جو مسلم نا ہوتا حالانکہ ہم دیکھتے ہیں مسلم بادشاہوں کی حکومت میں بے شمار غیرمسلم اپنے رسم و رواج کے مطابق زندگی گزارتے تھے اور بادشاہ وقت ان کے حقوق کی مکمل پاسداری بھی کرتاتھا۔ خود ہندوستان میں مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی ہے اگر انہوں نے تلوار کے زور پر اسلام پھیلایا ہوتا تو آج پورا ہندوستان مسلمان ہوتا حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔
۲۔جب اسلام تلوار کی زور پر نہیں پھیلا تو پھر اسلام میں اتنی ساری جنگیں کیوں ہوئیں؟
جواب ۔اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ اگر آپ پر کوئی حملہ کرتا ہے تو آپ اپنی حفاظت کی خاطر اس پر حملہ کر سکتے ہیں۔جب ہم اسلام میں ہوئی جنگوں کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام میں جتنی بھی جنگیں ہوئیں ہیں سوائے ایک دو کے مسلمانوں نے کسی بھی جنگ میں خود سے پیش قدمی نہیں کی بلکہ غیروں نے جب اسلام پر حملہ کیا تب مسلمانوں نے ان کے خلاف تلوار اٹھائی ہے ۔اور وہ جنگیں جس میں مسلمانوں نے پیش قدمی کی اس کی وجہ فتنے کا سد باب کرنا تھا اور وہ فتنہ یہ تھا کہ لوگوں کو اپنی مرضی سے مذہب کے انتخاب کرنے کی آزادی نہیں تھی تو اس مذہبی آزادی کی فضا ہموار کرنے کے لئے مسلمانوں نے پیش قدمی کی تاکہ لوگ اپنی مرضی سے جس مذہب کو چاہیں قبول کریں اور اللہ نے فرمایا(لا اكراه فی الدین )۳۔اسلام کے جنگ کرنے کا مقصد اگر اپنا دفاع اور فتنے کا سد باب کرنا تھا تو پھر فتح حاصل کرنے کے بعد کافروں کے مال پر قبضے کو اور بچے ہوئے لوگوں کو غلام بنانے کو جائز کیوں قرار دیا؟
اس سوال کے جاننے سے قبل ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ غلامی کا تصور پایا کب سے جاتا ہے؟ تو جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ غلامی کا تصور قبل اسلام سے چلا آرہا ہے اور اس وقت بھی شکست خوردہ لوگوں کے گلے میں غلامی کی زنجیریں ڈال دی جاتی تھیں اور ان کے مال پر قبضہ کر لیا جاتا تھا مزید ان کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا لیکن جب اسلام آیا تو یہ چیز اسلام میں بھی منتقل ہو گئی لیکن اس میں زمین آسمان کا فرق تھا وہ یہ کہ جب مسلمان اپنے مقابل کو شکست و ریخت سے دوچار کردیتے تو بقیہ افراد کو غلام بنا لیتے اور جو مال میدان جنگ میں ہوتا تھا صرف اسی پر قبضہ حاصل کرتے تھے اور غلام کے ساتھ وحشیانہ تشدد کرنے بجائے ان کے حقوق کی مکمل پاسداری کرتے تھے اور پھر ان کو آزاد کر دیتے تھے اور اسلام نے بے شمار مواقع پر غلام آزاد کرنے کی تعلیم و ترغیب بھی دی ہے نا کہ غلامی کلچر کو فروغ دیا ہے ۔اور جو قوم جنگ میں شکست کھا جاتی تھی اس کا جانی مالی بہت زیادہ نقصان ہو جاتا تھا وہ قوت و معیشت کے اعتبار سے بالکل کمزور ہو جاتی تھی اگر اسلام ان شکست خوردہ لوگوں کو غلام بنا کر ان کو حقوق نہ دیتا تو وہ بے یار و مددگار ہو جاتے اور اپنے پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لیے لوٹ ، قتل اور غارت کرتے جو فساد فی الارض کا سبب بنتا ۔
یہ تھے کچھ بنیادی اعتراضات اور ان کے جوابات ان کے علاوہ جہاد اور ایات جہاد پر بے شمار اعتراضات ہیں جن کے جوابات دئے جا چکے اور مزید دیے جارہے ہیں ۔

Wednesday, 9 January 2019

اپنے سب سے عزیز دوست (عفان عزیزی )کے نام نصیحت نامہ۔۔۔ تمہارے دوست احمد صفی کے قلم سے ۔


مدرسے کی زندگی کی کتنی صبحیں اور کتنی شامیں ہم نے ساتھ گزاریں
مجھے وہ دن بھی یاد ہے،جب مدرسہ میں تمہارا پہلا سال تھا اور میرا شاید کہ تیسرا. تم دس سال کے تھے تم نے اپنی پڑھائی کا آغاز نورانی قاعدہ سے کیا تھا اور خدا کے فضل سے تم نے بہت جلد حفظ قرآن مکمل کر لیا تھا تم اس وقت  اتنے چھوٹے تھے کہ لوگ دستار کے موقع تم سےجھک کر معانقہ کر رہے تھے ۔
یہاں تک کہ تم نے شعبہ عالمیت میں بھی داخلہ لے لیا
اور اپنے تعلیمی سفر میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور ہر جماعت میں اعلی پوزیشن حاصل کرتے رہے علمی مسابقہ میں ہمیشہ انعام کے مستحق قرار پائے یہاں تک کہ تم اپنی خوبیوں کی بنیاد پر طلبہ اور اساتذہ کے عزیز بن گئے ۔
لیکن 2019 نہ جانے تمہارے لیے کیا لیکر آیا کہ تم نے اپنے مادر علمی کو تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی ہمیشہ ہمیش کے لیے الوداع کہہ دیا ۔5جنوری 2019 کو دوپہر کا کھانا تمہارے ساتھ کھایا اور پھر سو گیا عصر کی نماز کے بعد میری نظریں تمہیں تلاشتی رہیں لیکن تم کہیں نظر نہ آئے اچانک یہ خبر سن نے کو ملی کہ تم نے ہمیشہ کے لیے جامعہ کو چھوڑ  دیا ہے ۔وقتی طور پر تو دل کو جھٹکا لگا لیکن یہ سوچ کر خود کو منا لیا کہ تم نے اپنے لیے اس سے بہتر کچھ سوچا ہوگا اور اسی کے حصول کی خاطر تم نے اپنی راہ بدل لی ہے۔
اب تم کہاں جاؤ گے، کیا کرو گے، مستقبل کا تعلیمی لائحہ عمل کیا ہے؟؟ یہ تو مجھے صحیح طور پہ نہیں معلوم ۔
لیکن تمہارے اس دوست کی تم سے کچھ نصیحتیں ہیں جس کو تم میری جانب سے تحفہ بھی سمجھ سکتے ہو کیونکہ میں تم کو اس سے بہتر اور کچھ نہیں دے سکتا ۔
بس کہنا یہ ہے کہ مصیبتوں سے نہ گھبرانا۔ یہ مصیبتیں اپنی تکلیفی اداؤں سے ڈراتی ہیں، اپنے اندھیروں کا پتا دیتی ہیں، مگر ان اندھیروں کے پار روشنی کا پتہ تمہیں خود لگانا ہے۔
راستہ مشکل لگے تو بدلنا نہیں، بلکہ ان مشکلوں کے پردے کو چاک کر کے اس کے پیچھے چھپی ہوئی کامیابی کو ٹھونڈنا۔
تلاشِ محبت میں نہ نکلنا کہ پوری نسل کا تجربہ تمہارے سامنے کھڑا ہے، بلکہ اپنی ایک منزل بنانا اور اسی منزل کے مجاور بن جانا اور کامیابی کی تلاش میں نکلے بے کسوں کی پناہ کا کام کرنا ۔ جب تم کسی کو کامیابی کی شاہراہ دکھاؤ گے تو اللہ تم کو ضرور کامیاب کرے گا۔
میں تم پر کوئی زور نہیں دیتا اور نہ کوئی زبردستی کر رہا ہوں۔ جو تم بننا چاہو، بننا۔ بس جو بننا اس کی آخری مثال تم رہنا۔
کسی بھی محاذ پر رہنا کتابوں سے اپنا تعلق نہ توڑنا کیونکہ اس سے بہتر تمہیں کوئی ساتھی نہیں مل سکتا، جب تمہارے پاس مال و دولت نہ ہوگا تب کتابیں تمہیں کسی کے سامنے جھکنے نہ دیں گی۔
تم کل کوئی چھوٹا پیشہ کرنا یا کسی بڑے منصب پر بیٹھنا اس ذمہ داری کو اتنے اچھے سے نبھانا کہ وہ پیشہ اور وہ منصب دوبارہ تمہاری تلاش میں رہے۔ ہر وہ کام جو تم کرنا  وہ تم سے پہچانا جائے۔ اس کام کا منتہائے کمال تم بننا بس یہ تمہارا دوست چاہتا ہے
تمہاری پہچان تمہاری موجودہ حالت ہو ماضی نہ ہو ۔سفر سے تھک جانا تو آرام کے لیے رکنے کہ بجائے قدموں کو نئی منزلوں کی راحتوں سے روشناس کرانا ۔
تمہارا کوئی ہو یا نہ ہو تم سب کے بننا۔تمہیں کوئی نوازے یا نہ نوازے تم سب کو عطا کرنا، اپنا ہو یا پرایا ہر ایک کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا۔
جس میدان میں بھی جانا کسی غیر کے اثر کو قبول نہ کرنا بلکہ اپنا اثر چھوڑ دینا۔
صرف اپنے ہی لوگوں سہارا نہ بننا بلکہ  ہر بے کس و مجبور کا مسیحا بن جانا۔
راتوں کو آرام کا وقت نہ سمجھنا بلکہ انہیں راتوں میں ماہتاب کھینچ لانے کا ملکہ حاصل کرنا ۔
اپنے تعلیمی سفر کو ایک نصب العین بنا کر جاری رکھنا، دولت اور حسن کے مسافر نہ بننا بلکہ پوری توجہ کو علم کے حصول کے لیے مبذول کرنا کیوں کہ علم میں مہارت حاصل کرلوگے تو یہ تمام چیزیں تمہاری بارگاہ کی باندی ہوں۔
یہ کچھ ٹوٹے پھوٹے کلمات تھے باقی میری دعا یہی ہے کہ اللہ تم کو تمہارے مقصد میں کامیاب کرے جہاں جاؤ وہاں روشنی لٹاؤ ۔
جو خوشی تمھارے قریب ہو ، وہ صدا تمھارے نصیب ہو
تجھے وہ خلوص ملے کہ جو، تیری زندگی پہ محیط ہو
جو معیار تجھ کو پسند ہو ، جو تمھارے دل کی امنگ ہو
تیری زندگی جو طلب کرے، تیرے ہمسفر کا وہ رنگ ہو
جو خیال دل میں اسیر ہو ، ہر دعا میں ایسی تاثیر ہو
تیرے ہاتھ اٹھتے ہی یک بیک، تیرے آگے اسکی تعبیر ہو
تجھے وہ جہاں ملے جدھر ، کسی غم کا کوئی گذر نہ ہو
جہاں روشنی ہو خلوص کی ، اور نفرتوں کی خبر نہ ہو۔

Sunday, 28 October 2018

جی ہاں میں ہی ابو سعید ہوں

جی ہاں میں ہی ابو سعید ہوں ۔

خانقاہ عارفیہ کا صاحب سجادہ مدرسہ عارفیہ کا بانی ہوں۔
مسلکا سنی حنفی، مشربا چشتی ،قادری،نقشبندی، سہروردی اور نسبا عثمانی ہوں اور ان سب سے پہلے محمدی ہوں۔صوفیاء کی روایات کا پاسبان اور اسلام کا داعی ہوں۔

جی ہاں میں ہی ابو سعید ہوں جس نے امت مسلمہ کے بکھرتے ہوئے شیرازہ کو دیکھا تو کڑھن محسوس کی کہ آج ہر شخص اپنے گروہ کا داعی بنا ہوا ہے، مدارس جو دین کے قلعے تھے وہاں پر اپنے فرقہ کی تعلیم دی جا رہی ہے، فروعی اختلافات پر جنگ و جدل کا عجب ماحول بنا ہوا ہے کوئی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے، صوفیا کرام کی تعلیمات پر قدغن لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تصوف کو اسلام کا مغایر قرار دیا جارہا ہے ۔تو میں نے اس کڑھن کے سد باب کے لیے اور امت کو ایک مرکز پر لانے کے لیے پیش رفت کی اور جامعہ عارفیہ کی بنیاد ڈالی لیکن قائدین وقت نے میرے آگے بڑھنے کے راستوں کو مسدود کرنے کی بہت کوششیں کیں کہ کہیں ہماری قیادت نہ چلی جائے لیکن میں نے ان کی مخالفت پر کان دھرے بغیر آگے بڑھتا رہا کیونکہ مجھے فکر تھی اپنی قوم کی جو بے سہارا تھی اور ٹکٹکی باندھے منتظر تھی کہ کوئی مسیحا آئے ہماری کشتی کو اس بھنور سے نکالے ۔میری مخالفت ہوتی رہی  لیکن میں آگے بڑھتا ہی رہا ۔
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے۔

جی ہاں میں ہی ابو سعید ہوں جس نے اپنے دعوتی مشن کا آغاز فرد سے کیا میں نے فرد کی ذہنیت کو بدلنے کی کوشش کی کیونکہ میں جانتا تھا جب فرد کی ذہنیت بدلے گی تو آہستہ آہستہ افراد کی حد تک انقلاب آئے گا اور جب افراد میں انقلاب آئے گا تو قوم بدلے گی۔تبھی مجھے ایک چیز سمجھ میں آگئی کہ آخر لوگ تعمیری میدان میں کیوں کام کرنا نہیں چاہتے؟؟ وہ صرف اس لیے کہ تعمیری کام کرنا ایک انتہائی خاموش کام ہے اس میں آدمی کو کام زیادہ کرنا پڑتا ہے لیکن اس کا کریڈٹ بہت کم ملتا ہے یعنی یہ کام ایسا ہے کہ قوم کی عمارت کھڑی کرنے کے لیے اس کی بنیاد میں دفن ہو جانا ہے اس کام کی یہی مشکل نوعیت ہے جس کی بنا پر شہرت پسند افراد اس میدان میں محنت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔
لیکن میں نے اللہ کی رضا کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا شروع کریا ۔

جی ہاں میں ہی ابو سعید ہوں جس نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ لوگ دوسروں کے ساتھ اختلافی مسائل میں الجھ کر تعمیری کام کرنا چاہتے ہیں حالانکہ زمانہ نے مجھے یہ تجربہ دیا ہے کہ انسان بیک وقت دو محاذ پر اپنی قوت صرف نہیں کر سکتا ہے اگر وہ نزاع میں الجھے گا تو تعمیری کام رک جائے گا اور اگر تعمیری کام میں مصروف ہوگا تو اسے نزاع کے میدان کو چھوڑنا پڑے گا ۔
اور میں ایسے موڑ پر کھڑا تھا کہ ایک طرف لوگ مجھے نزاع میں الجھانے کی کوشش کر رہے تھے اور دوسری طرف میں تعمیری کام کرنا چاہتا تھا اس لیے میں نے مخالفت میں الجھے بغیر تعمیری کام کی طرف اپنی توجہ کو مبذول کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج میرے ساتھ  باصلاحیت علماء کی ایک جماعت ہے جو میرے مشن کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔  آج میرا قائم کیا ہوا ادارہ  اپنی منفرد پہچان بنا چکا ہے ۔جس کا الحاق جامع ازہر مصر اور جامعہ مصطفی انٹر نیشنل یونیورسٹی  ایران سے ہے جہاں پر طلبہ عارفیہ اپنی علمی تشنگی کو بجھا رہے ہیں ۔اور دیگر عصری اداروں سے بھی معادلہ ہو چکا ہے ۔
جی ہاں میں ہی ابو سعید ہوں اور زندہ قوم کا بیٹا ہوں اس لیے میں مقاصد کو اہمیت دیتا ہوں، حال میں جیتا ہوں ماضی پہ شکوے نہیں کرتا، تنقید کا استقبال کرتا ہوں، عسر کی زمین پر یسر کی کھیتی کرتا ہوں، حقیقی ایشو پر آواز بلند کرتا ہوں نہ کہ دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مشغول رہتا ہوں۔۔
جی ہاں میں ہی ابو سعید ہوں جس نے تصوف پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا ،جس نے تعلیمات صوفیاء کو عام کرنے کے لیے ماہنامہ خضر راہ اور سالنامہ الاحسان کو جاری کیا تعلیمات تصوف کا نایاب فارسی متن مجمع السلوک (شیخ سعد الدین خیرآبادی) کو اردو میں ترجمہ کروایا جو کہ تعلیمات صوفیا کے ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

قریب ہے کہ زمانہ ٹھر کر بولے گا
کہ یہ فقیر تو قبضہ جہاں پہ رکھتا ہے

#احمدصفی

Tuesday, 4 September 2018

ناچیز کو داعی اسلام کی نصیحت

بیٹا! نفس پہ جو شاق گذرے وہ سالک کے لیے معراج ہے، انا کو جہاں ٹھیس پہنچے وہیں مقام بندگی ہے اور مقام بندگی ہی سے قرب کا راستہ ملتا ہے ‘’ تقرب ہے مقصود و مطلوبِ مومن’’

Sunday, 12 August 2018

مجھے سیاست داں بننا ہے

!!
مجھے سیاست دان بننا ہے!!!! 

ایک صاحب کہنے لگے جناب آپ کی دو تین تحریریں نظر سےگزریں جس میں آپ نے طلبہ مدارس کی توجہ کو اس طرف مبذول کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنا تعلیمی سفر  مقصد متعین کر کے طے کریں ۔
لیکن آپ نے خود کا نصب العین بتایا نہیں ۔
تو میں نے ان کی اس بات پر جواب دیا کہ شروع میں میرا مقصد صحافی بننا تھا لیکن اب سیاست دان بننے کا ہے۔
وہ اس لیے کہ اگر میں صحافت کے میدان میں جاتا ہوں تو میری سرگرمیاں فقط کتاب و قلم تک محدود رہیں گی زمینی سطح پر اپنی قوم کے لیے کچھ نہ کر پاؤں گا اور میرے فن کے ناظرین صرف پڑھے لکھے ہوں گے اور عوام کا اس سے کوئی سروکار نہ ہوگا ۔اس لیے میں نے اپنی قوم کے لیے کچھ کرنے کے جزبے کے تئیں کافی غور و فکر کے بعد سیاست کے میدان کا مجاہد بننے کا فیصلہ کیا۔
اور میرے سیاست داں بننے کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مدارس کے فارغین عموما مسجد و ممبر، تقریر و تحریر کو ہی اپنی تعلیم کا اصل مقصد سمجھتے ہیں ۔لیکن 
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے ۔
اور یہی وجہ ہے کہ عصری تعلیم گاہوں کے پڑھے ہوے افراد سیاست کے میدان میں نظر آتے ہیں لیکن وہاں پر ہمارا کوئی وجود نہیں ۔
تو اسی روایات کو توڑنے کے لیے میں نے یہ فیصلہ لیا کہ مجھے سیاسی میدان میں جانا ہے۔
اور رہی سیاست تو یہ کوئی غلط چیز نہیں ہے ۔بلکہ غلط تب ہے کہ 
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی 

اور اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ مذہب و سیاست اور مسجد قلعہ کے مابین رابطہ قائم کیا جائے ۔
اور جس کی نظیر آقا علیہ السلام اور صحابہ کرام کی زندگی میں ملتی ہے کہ مسجد میں نماز کی امامت کرتے تھے اور اختیارات کے حوالے سے ریاست کے سربراہ بھی ہوتے تھے ۔
اور میرے عزم کو پختگی اور حوصلہ اس وقت ملا کہ جب حضور داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی نے تائید کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی اور دعاؤں سے نوازا ۔
کہ میں راستے سے گزر رہا تھا تبھی حضور داعی اسلام کی نظر مجھ پر پڑی مجھ کو اشارے سے بلایا ۔
اور پوچھا کہ امسال کس جماعت میں ہو؟؟
تو میں نے جواب دیا جماعت ثامنہ میں ہوں ۔
داعی اسلام۔سال مکمل ہو جانے کے بعد کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ 
راقم الحروف ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی جانے کا ۔
داعی اسلام ۔وہاں کس مقصد کے لیے جا رہے ہو؟؟ 
راقم الحروف ۔سیاست میں جانے کے لئے ۔
جب میں نے اتنا کہا تو حضور داعی اسلام سے مجھے سینے سے لگا لیا اور نصیحت کی کہ بیٹا سیاست لذاتہ کوئی غلط چیز نہیں ہے. تم جاؤ اور جم کر محنت کرنا اور یوسف علیہ السلام کی سیاسی بصیرت کو گہری نظر سے سمجھنے کی کوشش کرنا اور موسی علیہ السلام کے اسلوب دعوت کو اختیار کرنا ۔اور آقا علیہ السلام کی سیرت کو سامنے رکھنا۔
اور خود کو ایک مسلم اور اہل سنت کا ایک فرد سے متعارف کرانا ۔

#احمدصفی

Monday, 25 June 2018

بھٹکے ہوے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل

آج اہل سنت والجماعت میں اختلاف و انتشار کا ماحول،اکابر میں دوریاں کہ ایک اسٹیج پر فلاں ہوگا تو فلاں نہیں جائے گا، فروعی اختلافات پر منفی شور قیامت، نظریاتی اختلاف کو صغری کبری فٹ کرکے عقائد کا اختلاف قرار دینا  پھر نتیجے میں اکابرین کی پگڑیاں اچھالنا ان کی جانب فحش کلمات کو منسوب کرنا عوام کو ان کے خلاف بد ظن کرنا وغیرہ وغیرہ آج انہیں چیزوں نے مسلک اہل سنت کو اقدامی محاذ سے دفاعی محاذ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔
اور فیس بک پر مناظرہ کرنے کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ آج ایک عام شخص جس کو نماز پڑھنے کا مکمل طریقہ بھی نہیں معلوم وہ بھی جانتا ہے کہ فلاں عالم کا فلاں عالم سے اختلاف چل رہا ہے۔
اور اسی آپسی اختلاف کی بنیاد پر عوام  بھی ژولیدگی کا شکار ہے کہ آخر ہم کن اکابر کو مانیں کہ ہر شخص تو ایک دوسرے کے نزدیک غلط ہے جسکا فائدہ دیوبندی اور وہابی اٹھا رہے ہیں کہ پورا پورا گاؤں علاقہ ان کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہوتا نظر آرہا ہے۔
اس کے برعکس
دیوبندی وہابی مکتب فکر کے اندر بھی ابتداء ہی سے بہت تنوع رہا ہے ۔ علماء دیوبند کا آپس میں  علمی و سیاسی اختلاف رہا لیکن مجال ہے کہ اتنے سخت اختلاف کے باوجود کبھی کسی نے دوسرے کو غیروں کا ایجنٹ ، فکری مرعوبیت کا شکار ،  دوسروں کے ذہن میں زہر گھولنے والا ، یا گستاخ، ضال مضل کہا ہو یا پھر  آپس میں ملاقاتیں بند کی ہوں ۔
آج سوشل میڈیا پر جو بحث و مباحثہ کی مجلسیں لگی ہوئی ہیں اور وقت کو بیکار چیزوں میں استعمال کیا جارہا ہےان میں 99فیصد افراد اہل سنت والجماعت کے نظر آئیں گے۔
اور آخر اغیار سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ کرتے کیوں نظر نہیں آتے؟؟ وہ جانتے ہیں کہ اس میں تعمیر سے کہیں زیادہ نتیجہ تخریب ہوگا۔
#احمد_صفی

خوگر حمد سے اہل مدارس تھوڑا سا گلہ سن لیں


تحریر۔احمد صفی

پچھلے ڈیڑھ سو سال کے اندر بر صغیر ہند میں اسلام اور ملت اسلامیہ کے تحفظ کے لیے متعدد تحریکیں اٹھیں ان تحریکوں کی ایک کڑی تحریک مدارس بھی ہے حالانکہ ان تحریکوں نے وقتی طور کے لیے تو اثر دکھایا لیکن تا دیر قائم نہ رہ سکیں سوائے تحریک مدارس کے کہ علماء ہند نے مدارس کے قیام کے سلسلے میں جو کوششیں کی تھیں وہ انیسویں صدی سے لیکر آج تک پھیلی ہوئی ہیں اور یہی مدارس اسلام کے قلعے ٹھرے اور اسی مدارس کے فارغین نے اسلام اور ملک کی حفاظت کے لیے بے حد قربانیاں دیں ۔
جس مدارس نے کبھی علامہ فضل حق خیر آبادی، مولانا آزاد، مولانا علی رضا خان عابدی، مفتی عنایت احمد کاکوری، مولانا کفایت اللہ وغیرہ وغیر جیسے عظیم ہیرے جواہرات پیدا کیے تھے
  کیا اب ان مدارس میں ایسے پروڈکٹس بننا بند ہوگئے ہیں؟
  کہ صرف ہندوستان میں ہر سال ایک سروے کے مطابق 12000طلبہ فارغ ہوتے ہیں اس کے باوجود اچھے داعی، اچھے قائد، اچھے مفسر، اچھے محدث، اچھے قاری ،اچھے خطیب کا رونا کیوں ہے؟؟
  حالانکہ نہ وہ دنیاوی کسی میدان میں نظر آتے ہیں مثلا فوج ہو ،عدالت ہو صحافت ہو، سفارت ہو وغیرہ وغیرہ
  آخر وہ کہاں جاتےہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ انہیں زمین کھا لیتی ہے یا پھر آسمان اچک لیتا ہے؟
   یا پھر مدارس انہیں اس لائق ہی نہیں بناتا کہ  وہ مدرسہ، مسجداور مکتب کے علاوہ دوسرے میدانوں میں روزگارکے مواقع دستیاب کر سکیں ؟؟؟
اس میں آخر غلطی کس کی ہے مدارس کی یا پھر بچوں کی؟؟؟
95%غلطی مدارس کی ہے کہ موجودہ زمانے میں مدارس مسلک و مشرب کے نام پر قربان ہو گیے کہ تمام مسالک  والوں نے اپنے اپنے مسلک کی ترویج و اشاعت کے لئے مداس کا سہارا لیا اور اپنے مسلکی نظریے کے تناظر میں طلبہ کی پروش کرنا شروع کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دیگر مسالک کا رد کرنا اور اپنے مسلک کی دعوت و تبلیغ کرنا طلبہ کےمستقبل کا ہدف بن گیا ۔اور اب مدارس سے داعی بن کر نکلنے کے بجائے مناظر بن کر نکلنے لگے ۔
امت کے راہنما بن کر نکلنے کے بجائے مسلک کے قائد نکلنا شروع ہو گیے۔
ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والے بن کر نکلنے کے بجائے اپنے مسلک کا درد رکھنے والے نکلنا شروع ہوگیے

اہل مدارس سے گزارش یہ ہے کہ اپنے نظریات کی بھٹی میں طلبہ کے مستقبل کو مت جلاؤ  بلکہ ان کی ایسی تربیت کرو کہ ملت اسلامیہ کو عظیم رہنما اور قائد مل سکیں ۔
یہ بات میں بہت ہی فخر سے کہہ رہا ہوں کہ اگر طلبہ مدارس کی اچھے طریقے سے تربیت کر دی جائے ان کو صحیح سمت دکھا دی جائے ان کے اندر یہ شعور پیدا کر دیا جائے کہ وہ اپنے اندر کی پنہا خوبیوں کو احساس کر سکیں تو وہ جس میدان میں قدم رکھے گا کامیابی ان کے قدم چومے گی۔
اہل مدارس کے لیے ایک اور بات کہ آخر ان باطل تحریکوں کی کامیابی کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ ان وجوہات کو تلاش کرکے عمل کرنے کی ضرورت ہے  ۔
آر ایس ایس اور اس طرح کی باطل تحریکوں نے بہت بعد میں کام کرنا شروع کیا اس کے باوجود وہ لوگ ہر میدان میں اپنے افراد کو بیٹھانے میں کامیاب ہو گیے
خواہ وہ عدالت ہو یا پھر صحافت ہو یا تو پھر سفارت ہو کوئی ایسا میدان نہیں جہاں پر انہوں نے کامیابی نہ حاصل کی ہو۔
ماہر نفسیات ان کے یہاں، ماہر تعلیمات ان کے یہاں اس کے علاوہ مختلف رسرچر ان کے یہاں ہیں ۔
اگلی تحریر ۔طلبہ مدارس سے شکوہ

طلبہ مدارس بھی تھوڑا سا گلہ سن لیں

طلبہ مدارس بھی تھوڑا سا گلہ سن لیں
تحریر ۔احمد صفی

میں جانتا ہوں کہ میری اس تحریر سے طلبہ مدارس کو تکلیف ہوگی لیکن میں پیشگی معزرت چاہتا ہوں اور مذکورہ  خامیوں سے میں بھی مستثنیٰ نہیں ۔

اس بزم سے مقصود ہے اصلاح مفاسد
نشتر جو لگاتا ہے وہ دشمن نہیں ہوتا۔

آغاز علامہ اقبالؒ کے اس شعر سے

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

علامہ اقبالؒ کے اس شعر کے مخاطب طالب علم ہیں ۔کیونکہ طالب علم کا تعلیمی دور اس کے مستقبل والے زندگی پر گہرے نقوش مرتب کرتا ہے۔زمانہ طالب علمی میں ان کی تربیت کا عمل جس قدر شفاف اور کارآمد ہوگا اسی قدر قوم کو ان کا تابناک مستقبل دیکھنے کو ملے گا ۔
آزادی ہند کے پیچھے صداقت، عدالت شجاعت کے لباس سے مزین جو افراد تھے وہ مدرسے کے طالب علم ہی تھے۔
اور دنیا میں جتنے بھی بڑے بڑے انقلاب آئے خواہ وہ مادی انقلاب ہوں یا پھر تعلیمی وہ انہیں کے بدولت آئے۔
اے مدرسے کی ٹوٹی پھوٹی چٹائی پر بیٹھ کر علم حاصل کرنے والے اٹھ اور دنیا والوں کو بتا دے کہ کل بھی ہم اقوام عالم کے امام تھے اور آج بھی اپنے علم کی بدولت دنیا والوں کو اپنی تقلید پر مجبور کر سکتے ہیں پر اس کے لیے ہمیں اقبال کا شاہین بننا ہوگا ہمیں اپنی خامیوں کو دور کرکے خوبیوں میں بدلنا ہوگا، قربانیاں دینی ہوں گی ۔
مدرسے میں میں نے نو سال گزارے اور امسال دسواں ہے اور میں خود ایک طالب علم ہوں اور میں نے طلبہ کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اس بات کو میں مانتا ہوں کہ جس قدر خوبیاں اور اچھائیاں طلبہ مدارس کے اندر ہوتی ہیں وہ عصری اداروں کے پروردہ میں کم نظر آتی ہیں ۔
ان خوبیوں سے قطع نظر مجھے ان کی خامیوں پر اور طریق اصلاح پر بات کرنی ہے ۔
(1) اکثر طلبہ مدارس درسیات پر مکمل زور دیتے ہیں اخبارات، جرنلس میگزین، اور دیگر سوشلسٹ علمی ذرائع سے بہت دور ہوتے ہیں ۔
حالانکہ درسیات میں محنت کرنا غلط نہیں ہے بلکہ ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا بھی استعمال کرنا چاہیے، تفریحی پروگرام غیر درسی تعلیمات و تحریکات میں بھی حصہ لینا چاہیے کیونکہ ان چیزوں کے ذریعے طالب علم کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔
(2)اکثر طلبہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ زیادہ رات تک پڑھنا کامیاب طالب علم کی علامت ہے یہ سوچ بلکل غلط ہے کیونکہ فزیکلی اعتبار سے آدھی رات کے بعد مائنڈ اتنی سرعت سے کام نہیں کرتا جتنی سرعت کے ساتھ باقی ٹائم میں کرتا ہے ۔اور دیر رات تک جاگنا ذہن اور حفظان صحت دونوں کے لیے مضر ہے ۔
(3)طلبہ مدارس کے اندر ایک اور کمی ہوتی ہے وہ ہے خود اعتمادی کا فقدان جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپنے بڑوں سے بات کرنے میں گھبرانا،اسٹیج پر بولنے سے ڈرنا، استاد سے سوال کرتے وقت زبان کا کپکپانا وغیرہ وغیرہ ۔جس طالب علم کے اندر خود اعتمادی نہ ہو وہ ایسے امور کو انجام دے جس سے اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو مثلا کلاس میں سب سے آگے بیٹھنا،تحریر و تقریر کے مشقی پروگراموں میں حصہ لینا، بڑوں سے تبادلہء خیال کرنا وغیرہ وغیرہ۔ورنہ خود اعتمادی کا نہ ہونا کامیابی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
(4)طلبہ مدارس کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ وہ اپنے تعلیمی سفر کو بغیر کسی نصب العین کے طے کر رہے ہوتے ہیں کہ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے تعلیم مکمل ہو جانے کے بعد ان کے سامنے سوائے اندھیرے کے کچھ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اب کدھر جائیں؟ اس لیے ہمیں اپنا نصب العین متعین کرنا ہوگا اونچے خواب دیکھنے ہوں گے، بلند حوصلگی اور  خود اعتمادی کا ذخیرہ پیدا کرنا ہوگا جو ہمیں بلند سے بلند پرواز پر آمادہ کر سکیں ۔
ایک بات اور عرض کروں کہ طلبہ مدارس نیورسٹی میں پڑھنے والوں سے کہیں زیادہ محنت کرتے ہیں اس کے باوجود طلبہ مدارس ان کی بنسبت کامیاب نہیں ہو پاتے کیوں؟ اس کی ایک بڑی وجہ نصب العین کا متعین نہ ہونا ہے ۔
(5)اکثر طلبہ جو کہ تعلیم میں تیز ہوتے ہیں ان کے دل میں کمزور طلبہ کے تئیں ہمدردی نہیں ہوتی مثلا ان سے گفتگو کرتے وقت سخت آواز میں بات کرنا، کسی مسئلے کو دو تین مرتبہ استفسار کر لینے پر غصہ ہو جانا اور پڑھانے سے انکار کر دینا وغیرہ وغیرہ اور یاد رکھیے یہ ایک اچھے طالب علم کی نشانی نہیں ہے ۔
اچھا طالب علم وہی ہوتا ہے جو اپنی جماعت کے کمزور بچوں کی ہر طرح سے مدد کرتا ہے اور اخلاق و محبت،مفاہمت اور تال میل کے ساتھ رہنمائی بھی کرتا ہے اور ان کو اپنے ساتھ لیکر آگے بڑھتا ہے۔
(6)ایک باریک غلطی جو طلبہ کرتے ہیں وہ یہ کہ کتابوں کا مطالعہ کرتے وقت وہ اس بات پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ کتاب کتنی جلد ختم ہو جائے کہ ہم نے ایک سال میں کتنی کتابیں ختم کی ہیں ۔
لیکن جب اس کتاب کے بارے میں یا پھر اس کتاب کے کسی مسئلہ کے متعلق سوال کر لیا جاتا ہے تو عدم معرفت کا اظہار کرتے ہیں ۔
حالانکہ مطالعہ کرنے کا یہ طریقہ بلکل غلط ہے بلکہ مطالعہ اس طور پر کیا جائے کہ اگر اس کو اختصارا بیان کرنا یا لکھنا پڑ جائے تو بآسانی بیان اور لکھ سکیں ۔ورنہ فقط کتابوں کی تعداد بڑھانے سے فائدہ کچھ بھی ہونے والا نہیں سوائے تضیع اوقات کے۔
(7)95%طلبہ اس وقت اختلافی مسائل، اکابر کی اختلافی ترشیحات،مختلف فیہ شخصیات کے دفاع و رد کرنے پر بحث و مباحثہ کرنے سے بے حد دل چسپی لے رہے  ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مناظراتی روش پر طلبہ کی فکر پروان چڑھ رہی ہے ۔جماعت اختلاف کی اماجگاہ بنتی نظر آرہی ہے ،درسیاتی کتب کو چھوڑ کر اپنے نظریات کی تائید پر کتابیں چھانی جا رہی ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ جن مدارس کا قیام دعوت و تبلیغ کے لیے ہوا تھا اب انہیں مدارس سے داعی کم مناظر زیادہ نکل رہے ہیں۔ہمیں ان چیزوں کو اپنے لیے مضر سمجھنا چاہیے اور ہمیں زیادہ تر اپنی توجہ کو ایسی چیزوں کی طرف مبذول رکھنی چاہیے جس سے ہماری شخصیت میں نکھار پیدا ہو، ہمیں کامیاب بنانے میں معاون ہوں۔
ایک شعر ملاحظہ فرمائیں

اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
خاک ہوجاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے

اپنی مٹی پر تو چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پر چلوگے تو پھسل جاؤگے.

عزیز بیٹی ملالہ

 عزیز بیٹی ملالہ سلامت رہو امید ہے اپنے محبت کرنے والوں کے درمیان خوش و خرم ہو گی  بڑے دنوں سے دل چاہتا تھا تم سے بات کروں مگر کوئی موقعہ نہ...